حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کے صدر حجت الاسلام شیخ علی نقی جنتی اسلامی جمہوریہ ایران کے پہلے ثقافتی و مذہبی سفارت کاری ایوارڈ کے لیے منتخب ہوئے اور انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
صدرِ جامعہ روحانیت بلتستان کو پاکستان میں دینی، علمی، ثقافتی، تبلیغی اور سماجی سرگرمیوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ علمی و ثقافتی روابط کے فروغ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں اس اہم اعزاز سے نوازا گیا۔
یہ ایوارڈ اسلامی جمہوریہ ایران کے ادارۂ ثقافت و اسلامی روابط کی جانب سے پہلی مرتبہ منعقد کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد ان شخصیات اور فعال افراد کی خدمات کو سراہنا تھا جنہوں نے ثقافتی و عوامی سفارت کاری کے میدان میں ایران کی حقیقی تصویر، ثقافتی و دینی اقدار اور علمی و سماجی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر متعارف کروانے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

اس ایوارڈ کے پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 45 ملکی و بین الاقوامی شخصیات کو اعزاز سے نوازا گیا، جن میں 30 ایرانی اور 15 بین الاقوامی شخصیات شامل تھیں۔
ثقافت و فنون، ثقافتی میراث و سیاحت، دین و تبلیغ، ذرائعِ ابلاغ و سوشل میڈیا، سائنس اور کھیل سمیت مختلف شعبوں کو اس ایوارڈ میں شامل کیا گیا، جس سے اس اقدام کے وسیع دائرۂ کار اور ثقافتی و عوامی سفارت کاری کے مختلف میدانوں میں فعال شخصیات کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے پہلے ثقافتی و عوامی سفارت کاری ایوارڈ کی تقریب میں، ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف، وزیرِ ثقافت و تبلیغ سید عباس صالحی، وزیرِ علوم، تحقیقات و ٹیکنالوجی حسین سیمائی صراف اور وزیرِ ثقافت، سیاحت و دستکاری سید رضا صالحی امیری سمیت مختلف اعلیٰ سرکاری عہدیداران، علمی و ثقافتی شخصیات اور عوامی و ثقافتی سفارت کاری سے وابستہ نمایاں افراد نے شرکت کی۔
ادارۂ ثقافت و اسلامی روابط کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین محمد مہدی ایمانی پور نے اس موقع پر ایوارڈ کے مقاصد اور اہمیت بیان کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر جنگی حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس ایوارڈ میں صرف میڈیا اور سوشل میڈیا سے وابستہ افراد ہی نہیں، بلکہ دین، علم، ثقافت، فنون، کھیل اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق، بنیادی معیار کسی فرد یا سرگرمی کا اثر اور سامعین و ناظرین تک رسائی ہے۔
جامعہ روحانیت بلتستان کے مطابق، حجت الاسلام شیخ علی نقی جنتی کا اس اہم بین الاقوامی ایوارڈ کے لیے انتخاب خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اعزاز صرف ایک دینی شخصیت کی خدمات کا اعتراف نہیں، بلکہ پاکستان کے دینی و مذہبی اور عوامی اداروں کے ثقافتی سفارت کاری میں کردار اور اثر ورسوخ کا بھی اعتراف قرار دیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے علمی، دینی، ثقافتی اور سماجی میدانوں میں مختلف سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔ بالخصوص پاکستان کی شیعہ قوم اور اسلامی جمہوریہ ایران کے علمی، دینی اور ثقافتی مراکز کے درمیان روابط کے فروغ، علمی و فکری تبادلے اور مشترکہ ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد میں اس ادارے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
جامعہ روحانیت بلتستان کے صدر حجت الاسلام شیخ علی نقی جنتی کی قیادت میں ادارے نے مختلف علمی، ثقافتی، دینی اور سماجی منصوبوں کو آگے بڑھایا ہے اور پاکستان میں دینی و حوزوی حلقوں کے درمیان رابطے مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ایران اور پاکستان کے درمیان مذہبی و ثقافتی روابط کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔
صدرِ جامعہ روحانیت بلتستان ان کی مسلسل اور شب وروز جدوجہد کے نتیجے میں جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان نے نہ صرف بلتستان، بلکہ پاکستان کے مختلف علاقوں اور بیرونِ ملک موجود دینی و علمی مراکز کے ساتھ اپنے روابط اور سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کیا ہے۔
اسی سلسلے میں حجت الاسلام شیخ علی نقی جنتی کا اسلامی جمہوریہ ایران کے پہلے ثقافتی و عوامی سفارت کاری ایوارڈ کے لیے انتخاب، جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کی علمی، دینی، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کی اہمیت اور اس ادارے کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی شناخت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اعزاز جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کے لیے ایک قابلِ فخر کامیابی اور اس کے صدر حجت الاسلام شیخ علی نقی جنتی کی مسلسل، مخلصانہ اور انتھک خدمات کا اعتراف ہے، جبکہ یہ انتخاب پاکستان کے دینی و عوامی اداروں کی ثقافتی و عوامی سفارت کاری کے میدان میں موجود وسیع صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔









آپ کا تبصرہ